ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کے زیر اقتدار ہندوستان خواتین کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک ؛ ایک سروے میں تشویشناک انکشاف

مودی کے زیر اقتدار ہندوستان خواتین کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک ؛ ایک سروے میں تشویشناک انکشاف

Wed, 27 Jun 2018 12:52:58    S.O. News Service

نئی دہلی،27جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) خواتین کے ساتھ جنسی استحصال، عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہندوستان میں لگاتار بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بی جے پی لیڈران کے ذریعہ کئی بار خواتین کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال بھی بہت عام ہو گیا ہے، اور ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک سروے میں ہندوستان خواتین کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہ سروے تھامسن رائٹرس فاونڈیشن کے ذریعہ کرایا گیا ہے جو 26 مارچ سے 4 مئی 2018 کے درمیان کرایا گیا۔ اس سروے میں پوری دنیا سے 548 ایسے ماہرین کو شامل کیا گیا جو خواتین کے مسائل پر گرفت رکھتی ہیں۔  ان میں اکیڈمکس، صحت کارکن، پالیسی ساز اور این جی او میں کام کرنے والے افراد کو بھی شامل کیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2011 میں کرائے گئے اسی طرح کے سروے میں ہندوستان چوتھے مقام پر تھا، لیکن مودی حکومت میں خواتین کے جنسی استحصال میں ہوئے اضافہ اور ملزمین کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے سبب ہندوستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہو رہی ہے۔

اس سروے کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ بھی کیا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ ایک طرف ہمارے وزیر اعظم یوگا کا ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف خواتین کے خلاف عصمت دری اور تشدد کے معاملے میں ہندوستان کی حالت افغانستان، سیریا اور سعودی عرب سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے کس قدر شرم کی بات ہے۔

بہر حال تازہ سروے کے مطابق ہندوستان خواتین کے لیے سب سے خطرناک ممالک کی فہرست میں اول مقام پر ہے جب کہ دہشت گردی سے متاثر افغانستان اور جنگی صورت حال کا سامنا کر رہا سیریا دوسرے اور تیسرے مقام پر ہے۔ تھامسن رائٹرس فاونڈیشن نے خواتین کے لیے سب سے خطرناک دس ممالک کی فہرست پیش کی ہے جس میں امریکہ کا مقام دسواں ہے۔ پاکستان کو اس فہرست میں چھٹا مقام حاصل ہوا ہے۔ 193 ممالک میں خواتین کی صورت حال پر کیے گئے اس سروے میں صومالیہ کا مقام چوتھا اور سعودی عرب کا مقام پانچواں ہیں۔

اگر تازہ سروے کا موازنہ 2011 کے سروے سے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ مرتبہ پہلے مقام پر افغانستان، دوسرے پر کانگو، تیسرے پر پاکستان، چوتھے پر ہندوستان اور پانچویں پر صومالیہ تھا۔ گویا کہ اس مرتبہ جہاں ہندوستان میں خواتین پر خطرات کے بادل بے تحاشہ بڑھے ہوئے نظر آ رہے ہیں وہیں پاکستان نے اپنی حالت میں بہتری کی ہے۔ ویسے اس سروے میں صرف جنسی استحصال اور چھیڑخانی جیسے معاملوں کو ہی اصل بنیاد نہیں بنایا گیا ہے بلکہ اس میں خواتین کی صحت، ثقافتی روایت، تفریق، مار پیٹ اور انسانی اسمگلنگ کا معاملہ بھی شامل کیا گیا تھا۔

فاونڈیشن نے اس سلسلے میں ہندوستان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی والا ملک جہاں 1.3 بلین لوگ رہتے ہیں، وہ تین معاملوں میں دنیا کا سب سے خطرناک ملک ہیاور وہ ہے خواتین کے خلاف جنسی تشدد و استحصال، ثقافتی و روایتی معاملات اور انسانی اسمگلنگ جن میں زبردستی مزدوری کرانا، جنسی غلامی کرانا اور گھریلو ملازم رکھنا وغیرہ شامل ہے۔ اس سروے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2012 میں نربھیا عصمت دری معاملہ کے بعد سے ہندوستان میں خواتین کی سیکورٹی کی طرف کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس سے حالات بدتر ہوئے ہیں۔ حکومت ہند کے اعداد و شمار کے مطابق بھی 2007 سے 2016 کے درمیان خواتین کے خلاف جرائم کے معاملات میں 83 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ہر گھنٹے چار خواتین کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ پیش آتا ہے۔ اس کے باوجود مودی حکومت کی خاموشی حیران کن ہے۔


Share: